مواد پر جائیں مواد پر جائیں
نو بال بمقابلہ وائیڈ: اصل فرق
کرکٹ گفتگو · Analysis

نو بال بمقابلہ وائیڈ: اصل فرق

نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی گیندیں ہیں، مگر کرکٹ کے قوانین میں ان کی وجہ، رنز اور اگلی گیند کا اثر مختلف ہوتا ہے۔ نو بال عموماً بولر کے کریز سے آگے نکلنے، خطرناک باؤنس یا غلط فیلڈنگ پوزیشن سے بن...

28 اکتوبر، 2026 5 min read
❦

نو بال بمقابلہ وائیڈ: اصل فرق

نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی گیندیں ہیں، مگر کرکٹ کے قوانین میں ان کی وجہ، رنز اور اگلی گیند کا اثر مختلف ہوتا ہے۔ نو بال عموماً بولر کے کریز سے آگے نکلنے، خطرناک باؤنس یا غلط فیلڈنگ پوزیشن سے بنتی ہے، جبکہ وائیڈ اس وقت دی جاتی ہے جب گیند بیٹر کی معمول کی پہنچ سے واضح طور پر باہر ہو۔ دونوں صورتوں میں بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند اوور میں شمار نہیں ہوتی۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں نو بال کے بعد اگلی گیند اکثر فری ہٹ ہوتی ہے، مگر وائیڈ کے بعد ایسا نہیں ہوتا۔ میری نظر میں اصل فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ گیند کہاں گری، بیٹر کہاں کھڑا تھا اور بولر نے کون سا قانون توڑا۔ اس لیے اسکور بورڈ، امپائر کا اشارہ اور مقابلے کے قوانین تینوں ضرور دیکھیں۔

An umpire signaling no ball beside the cricket pitch while players watch under stadium lights

اگر گیند نو بال ہو تو کیا کریں؟

نو بال کی صورت میں بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، گیند اوور میں شمار نہیں ہوتی، اور محدود اوورز کے مقابلے میں اگلی گیند فری ہٹ بن سکتی ہے۔ فیصلہ پاپنگ کریز، بولر کے پاؤں، گیند کی بلندی اور فیلڈنگ پابندیوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

نو بال صرف فرنٹ فٹ کے کریز سے آگے جانے کا نام نہیں ہے۔ قانون کے مطابق بولر کا اگلا پاؤں کریز کی پچھلی حد کے پیچھے رہنا چاہیے، جبکہ پچھلا پاؤں ریٹرن کریز کے اندر رہ سکتا ہے۔ اگر گیند بیٹر کے سر کی بلندی سے اوپر خطرناک انداز میں گزرے، دو مرتبہ سے زیادہ اچھلے، یا کمر سے اوپر بغیر اچھلے پہنچے، تو امپائر نو بال دے سکتا ہے۔ میریلبون کرکٹ کلب کے قوانین میں نو بال کے مختلف اسباب الگ الگ درج ہیں، اس لیے صرف قدم دیکھ کر فیصلہ کرنا درست نہیں۔

نو بال کے بعد حکمت عملی بھی بدل جاتی ہے۔ ٹی/20 میں فری ہٹ پر بیٹر عموماً بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتا ہے، لہٰذا بولر کو یارکر، سست گیند یا آف اسٹمپ سے باہر لائن کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ تاہم فری ہٹ پر رن آؤٹ، اسٹمپنگ یا ہٹ وکٹ جیسے بعض طریقوں سے وکٹ اب بھی ممکن ہے۔ یہی وہ باریک فرق ہے جسے عام تماشائی اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

  • سامنے والے پاؤں کا کریز سے آگے ہونا: عام نو بال۔
  • کمر سے اوپر خطرناک فل ٹاس: نو بال۔
  • اوور میں مقررہ فیلڈنگ دائرے کی خلاف ورزی: بعض فارمیٹس میں نو بال۔
  • نو بال کے بعد محدود اوورز میں اگلی گیند: عموماً فری ہٹ۔

مزید بنیادی وضاحت کے لیے کرکٹ کے بنیادی قوانین دیکھیں۔ اسکورر کو نو بال کا اضافی رن، بیٹر کے رنز اور فری ہٹ کی حیثیت الگ نوٹ کرنی چاہیے؛ یہی تفصیل بعد میں اسکور کے اختلاف سے بچاتی ہے۔

اب نو بال کے عملی اثرات کو ایک مختصر مثال سے سمجھنا زیادہ آسان ہوگا۔

مزید جانیں

اگر گیند وائیڈ ہو تو کیا کریں؟

وائیڈ وہ گیند ہے جو بیٹر کی معمول کی پہنچ سے باہر ہو اور جسے عام کرکٹ شاٹ سے کھیلنا غیرمعمولی طور پر مشکل ہو؛ اس پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، گیند اوور میں شامل نہیں ہوتی، مگر اگلی گیند فری ہٹ نہیں بنتی۔

وائیڈ کا فیصلہ صرف گیند کی پوزیشن سے نہیں بلکہ بیٹر کے مقام اور حرکت سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اگر بیٹر آف سائیڈ پر بہت دور کھڑا ہو کر گیند تک پہنچ جائے، تو وہی لائن وائیڈ نہ بھی ہو سکتی ہے؛ اس کے برعکس بیٹر کے جسم کے پیچھے نکلنے والی گیند وائیڈ بن سکتی ہے۔ اسی لیے ٹی/20، ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ میں وائیڈ کی عملی حد یکساں دکھائی نہیں دیتی، اگرچہ بنیادی قانون ایک ہی رہتا ہے۔

وائیڈ پر ملنے والا رن اضافی رنز میں شمار ہوتا ہے، بیٹر کے ذاتی اسکور میں نہیں۔ اگر گیند وکٹ کیپر سے نکل کر باؤنڈری تک پہنچے تو عام طور پر پانچ وائیڈ رنز مل سکتے ہیں: ایک بنیادی وائیڈ اور چار باؤنڈری کے۔ اگر بیٹر دوڑ کر رنز مکمل کرے تو وہ بھی وائیڈ کے مجموعے میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ عددی نکتہ اس وقت خاص اہم ہے جب میچ کا نتیجہ ایک یا دو رنز سے طے ہو۔

اننگز کے اختتامی مرحلے میں وائیڈ کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے، کیونکہ ایک اضافی گیند اور اضافی رن دونوں ملتے ہیں۔ مگر بولر اگر آف سائیڈ پر بہت چوڑا جانے سے بچنے کے لیے گیند اندر لائے تو بیٹر کو باؤنڈری کا موقع مل سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین میں فارمیٹ کے مطابق وائیڈ کی تشریح اور امپائرنگ رہنما اصول دیکھے جا سکتے ہیں۔

حقیقی میچ میں فیصلہ کرتے وقت یہ ترتیب مفید رہتی ہے:

  1. پہلے دیکھیں کہ گیند بیٹر کے عام اسٹروک زون میں تھی یا نہیں۔
  2. پھر بیٹر کی ابتدائی اور آخری پوزیشن کا موازنہ کریں۔
  3. وائیڈ اشارے کے بعد اضافی رنز اور گیندوں کی تعداد درست کریں۔
  4. گیند باؤنڈری تک گئی ہو تو بنیادی وائیڈ اور باؤنڈری رنز الگ سمجھیں۔

کرکٹ گفتگو پر میچ کے اہم لمحات پڑھتے وقت صرف وائیڈ کی تعداد نہ دیکھیں؛ یہ بھی دیکھیں کہ وہ کس اوور اور کس دباؤ کے مرحلے میں ہوئی۔

Cricket scorekeeper recording wides and extras beside a tense T20 match scoreboard

اگر دونوں کا موازنہ کرنا ہو تو کیا دیکھیں؟

نو بال اور وائیڈ دونوں اضافی رنز دیتے ہیں اور اوور کی قانونی گیندوں کی تعداد نہیں بڑھاتے، لیکن نو بال دفاعی سزا کے طور پر زیادہ بھاری ہو سکتی ہے کیونکہ محدود اوورز میں اس کے بعد فری ہٹ ملتی ہے۔ وائیڈ عموماً لائن یا بیٹر کی حرکت سے متعلق غلطی ہے اور اس کے بعد عام قانونی گیند آتی ہے۔

ایک سادہ موازنہ یوں سمجھیں:

پہلو نو بال وائیڈ
بنیادی وجہ کریز، بلندی یا فیلڈنگ قانون کی خلاف ورزی بیٹر کی پہنچ سے باہر گیند
اضافی رن کم از کم ایک کم از کم ایک
اوور میں شمار نہیں نہیں
فری ہٹ محدود اوورز میں عموماً ہاں نہیں
بیٹر کے رنز الگ شمار ہوتے ہیں الگ شمار ہوتے ہیں
عام اشارہ امپائر کا بازو پھیلا ہوا دونوں بازو پہلوؤں میں پھیلے ہوئے

ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ نو بال کا بنیادی اضافی رن اور بیٹر کے بلے سے بننے والے رنز ایک ہی گیند پر جمع ہوسکتے ہیں، جبکہ وائیڈ پر بیٹر کا گیند کو چھونا بعض حالات میں فیصلے کو بدل سکتا ہے۔ اگر بیٹر گیند کو کھیل لیتا ہے تو امپائر عموماً وائیڈ کے بجائے بننے والے رنز یا بائی کے اصول دیکھتا ہے۔ یہاں ویڈیو ری پلے اور مقامی مقابلے کے ضوابط اہم ہوجاتے ہیں۔

اعداد کے ذریعے فرق مزید واضح ہے: اگر نو بال پر بیٹر نے چار رنز بنائے تو مجموعہ پانچ ہوسکتا ہے، اور اگلی گیند فری ہٹ ہوگی۔ اگر وائیڈ گیند وکٹ کیپر کے پیچھے باؤنڈری تک جائے تو مجموعہ پانچ وائیڈ ہوسکتا ہے، مگر اگلی گیند فری ہٹ نہیں ہوگی۔ کرکٹ کے قوانین کا تعارفی خلاصہ بھی اسی بنیادی فرق کی تصدیق کرتا ہے۔

یہاں ایک متضاد مگر مفید نتیجہ سامنے آتا ہے: زیادہ وائیڈ ہمیشہ زیادہ خطرناک نہیں، جبکہ ایک نو بال کم رنز کے باوجود اگلی فری ہٹ کے باعث پورا میچ موڑ سکتی ہے۔ بولنگ تجزیے میں صرف ایکسٹرا نہیں، بلکہ اگلی گیند کے خطرے کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

عام غلطیوں سے کیسے بچیں؟

عام غلطی یہ ہے کہ ہر باہر جاتی گیند کو وائیڈ اور ہر کریز کی غلطی کو نو بال سمجھ لیا جاتا ہے؛ درست فیصلہ گیند، بیٹر کی پوزیشن، فارمیٹ اور امپائر کے اشارے کو ایک ساتھ دیکھنے سے ہوتا ہے۔ اسکورر کو اضافی رنز اور قانونی گیندوں کی تعداد دوبارہ ملانی چاہیے۔

دوسری غلطی فری ہٹ کو وائیڈ کے بعد بھی لاگو سمجھنا ہے۔ فری ہٹ صرف ان حالات میں آتی ہے جہاں مقابلے کے ضوابط نو بال کے بعد اسے مقرر کرتے ہیں، جبکہ وائیڈ کے بعد بولر معمول کی اگلی گیند کراتا ہے۔ تیسری غلطی یہ ہے کہ نو بال پر بننے والے بیٹر کے رنز کو اضافی رنز میں شامل کردیا جائے؛ اسکور کارڈ پر نو بال ایکسٹرا الگ رہتا ہے، جبکہ چوکا یا دوڑ بیٹر کے مجموعے میں جاسکتی ہے۔

کچھ مقابلوں میں مقامی قوانین معمول کی بین الاقوامی تشریح سے مختلف ہوسکتے ہیں، خاص طور پر جونیئر کرکٹ، کلب کرکٹ اور مختصر تفریحی فارمیٹس میں۔ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے یہ نکات تحریری طور پر دیکھیں:

  • کیا کمر سے اوپر فل ٹاس کو نو بال مانا جائے گا؟
  • کیا فری ہٹ کا اصول نافذ ہے؟
  • وائیڈ کی سائیڈ لائن اور بیٹر کی حرکت کا معیار کیا ہے؟
  • بارش سے متاثرہ میچ میں اوورز اور جرمانے کیسے شمار ہوں گے؟
  • ویڈیو امپائر یا فیصلہ چیلنج کرنے کا نظام موجود ہے یا نہیں؟

ایک اور کم زیرِبحث نکتہ اسکور بورڈ کی جانچ ہے: اگر اوور میں چھ قانونی گیندوں کے ساتھ دو وائیڈ اور ایک نو بال دکھائی دے، تو بولر کی گیندوں کی کل تعداد نو ہوسکتی ہے، مگر قانونی گیندیں صرف چھ رہیں گی۔ یہی فرق بولر کے اعداد، اوور ریٹ اور ہدف کے حساب میں اثر ڈالتا ہے۔

صحیح اشاروں کی مشق کے لیے امپائر کے اشاروں کی مکمل فہرست مفید رہے گی۔ جب شک ہو تو ٹیلی ویژن گرافک کے بجائے سرکاری امپائر کا فیصلہ اور میچ کے قوانین کو ترجیح دیں۔

اسکورنگ کی ان باریکیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مقابلے سے پہلے ایک مختصر چیک لسٹ بنانا بہتر ہے۔

مزید جانیں

تیس دن بعد کیا جانچیں؟

تیس دن کی مشق یا میچ ریکارڈ کے بعد صرف نو بال اور وائیڈ کی کل تعداد نہیں، بلکہ ان کے وقت، وجہ اور اگلی گیند کے نتیجے کو جانچیں۔ اس طرح بولر کی اصل کمزوری سامنے آتی ہے: فرنٹ فٹ، آف سائیڈ لائن، خطرناک بلندی یا دباؤ میں فیصلہ۔

بولنگ یونٹ کے لیے یہ ریکارڈ بنائیں:

  1. ہر بولر کی نو بال کی شرح: نو بال ÷ کل گیندیں × 100۔
  2. وائیڈ کی شرح: وائیڈ گیندیں ÷ کل گیندیں × 100۔
  3. آخری پانچ اوورز میں ایکسٹرا کی تعداد۔
  4. نو بال کے بعد فری ہٹ پر دیے گئے رنز۔
  5. وائیڈ کے بعد اگلی قانونی گیند پر بننے والے رنز۔
  6. دباؤ کے مرحلے میں غلطیوں کی تکرار۔

مثلاً ایک بولر نے تیس دن میں 300 گیندیں کیں اور 6 نو بالز کرائیں، تو نو بال کی شرح 2 فیصد بنتی ہے؛ اسی بولر کی 12 وائیڈز کی شرح 4 فیصد ہوگی۔ یہ دونوں اعداد الگ تربیت مانگتے ہیں: نو بال کے لیے رن اپ اور فرنٹ فٹ کی ویڈیو، وائیڈ کے لیے ریلیز پوائنٹ اور ہدف کی چوڑائی کا جائزہ۔ بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی میں اسی ڈیٹا کو میچ منصوبے سے جوڑنے کے طریقے دیکھے جاسکتے ہیں۔

بیٹر کے لیے بھی تیس دن کا جائزہ مفید ہے۔ فری ہٹ پر غیرضروری بڑا شاٹ کھیلنے کے بجائے فیلڈ، گیند کی رفتار اور رن کی ضرورت دیکھیں؛ وائیڈ پر دوڑنے سے پہلے وکٹ کیپر اور فیلڈرز کی پوزیشن جانچیں۔ میریلیبن کرکٹ کلب کے قوانین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ امپائر کا فیصلہ کھیل کے نظم کا مرکز ہے، اس لیے بحث کے بجائے اشارہ، اسکور اور اگلی گیند پر توجہ دینی چاہیے۔

کرکٹ گفتگو کی میچ کوریج میں جب ایکسٹرا کا خانہ دیکھیں تو اسے معمولی تفصیل نہ سمجھیں۔ ٹی/20 میں ایک نو بال ممکنہ طور پر فری ہٹ اور باؤنڈری کا دروازہ کھول سکتی ہے، جبکہ مسلسل وائیڈز بولر کو منصوبہ بدلنے پر مجبور کرتی ہیں۔ آخر میں کامیاب ٹیم وہ ہوتی ہے جو قانون جاننے کے ساتھ اس قانون کے عددی اثر کو بھی فوراً سمجھ لے۔

Coach reviewing a month-long bowling chart with a young fast bowler beside an outdoor cricket net

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ میں نو بال کیا ہوتی ہے؟

جواب: نو بال ایسی غیرقانونی گیند ہے جس میں بولر کریز، گیند کی بلندی یا کسی مقررہ فیلڈنگ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بیٹنگ ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند اوور کی قانونی چھ گیندوں میں شامل نہیں ہوتی۔ محدود اوورز کے مقابلے میں اگلی گیند عموماً فری ہٹ بنتی ہے۔ فرنٹ فٹ نو بال کے لیے پاپنگ کریز کے آگے اترنا عام مثال ہے، مگر خطرناک فل ٹاس اور غلط فیلڈنگ بھی وجہ بن سکتی ہے۔

سوال: کرکٹ میں وائیڈ کیسے دی جاتی ہے؟

جواب: وائیڈ اس وقت دی جاتی ہے جب گیند بیٹر کی معمول کی پہنچ سے واضح طور پر باہر ہو۔ امپائر بیٹر کی پوزیشن، اس کی حرکت، گیند کی سمت اور مقابلے کے مقررہ معیار کو دیکھتا ہے۔ ایک وائیڈ پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرانی پڑتی ہے۔ اگر گیند وکٹ کیپر سے نکل کر باؤنڈری تک جائے تو وائیڈ رنز کا مجموعہ پانچ ہوسکتا ہے۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں بنیادی فرق کیا ہے؟

جواب: نو بال بولر کی قانونی یا تکنیکی خلاف ورزی ہے، جبکہ وائیڈ بیٹر کی پہنچ سے باہر گیند کا فیصلہ ہے۔ دونوں اوور میں شمار نہیں ہوتیں اور کم از کم ایک اضافی رن دیتی ہیں، مگر نو بال کے بعد محدود اوورز میں فری ہٹ مل سکتی ہے۔ وائیڈ کے بعد فری ہٹ نہیں ملتی۔ اس لیے کم رنز والی نو بال بھی اگلی گیند کے باعث زیادہ نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

سوال: نو بال کے بعد فری ہٹ کب ملتی ہے؟

جواب: محدود اوورز کے کرکٹ فارمیٹس میں نو بال کے بعد اگلی گیند عموماً فری ہٹ ہوتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں فری ہٹ کا اصول عام طور پر لاگو نہیں ہوتا، اور بعض مقامی مقابلوں کے قوانین الگ ہوسکتے ہیں۔ فری ہٹ پر بیٹر کو رن آؤٹ، اسٹمپنگ یا ہٹ وکٹ جیسے مخصوص طریقوں سے آؤٹ کیا جاسکتا ہے۔ میچ شروع ہونے سے پہلے مقابلے کے ضوابط دیکھنا ضروری ہے۔

سوال: اگر نو بال یا وائیڈ کا فیصلہ غلط لگے تو کیا کریں؟

جواب: پہلے امپائر کا اشارہ، اسکور بورڈ اور دستیاب ویڈیو ری پلے دیکھیں، پھر مقابلے کے جائزہ یا چیلنج کے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ کھلاڑی براہِ راست بحث کے بجائے کپتان یا مقررہ نمائندے کے ذریعے وضاحت مانگیں۔ اسکورر کو گیند نمبر، اضافی رن اور بیٹر کے رنز الگ درج کرنے چاہئیں۔ مقامی کلب مقابلوں میں ویڈیو جائزہ نہ ہونے کی صورت میں آن فیلڈ فیصلہ حتمی ہوسکتا ہے۔

سوال: کیا نو بال اور وائیڈ کے لیے الگ فیس یا شرط ہوتی ہے؟

جواب: کرکٹ کے سرکاری قوانین میں نو بال یا وائیڈ دینے کے لیے کھلاڑی سے کوئی فیس نہیں لی جاتی؛ یہ کھیل کے اضافی رنز اور امپائرنگ فیصلے ہیں۔ البتہ بعض مقابلوں میں ٹیم کے اندرونی نظم کے تحت جرمانہ مقرر ہوسکتا ہے، جو ٹورنامنٹ کے ضوابط سے الگ معاملہ ہے۔ کسی پیش گوئی یا جوا سروس میں رقم لگانے سے پہلے مقامی قانون، عمر کی شرط اور لائسنس کی جانچ کریں، کیونکہ غیرمجاز پلیٹ فارم مالی خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔

سوال: نو بال اور وائیڈ کم کرنے کے لیے بولر کیا کرے؟

جواب: بولر کو رن اپ، فرنٹ فٹ، ریلیز پوائنٹ اور ہدف کی چوڑائی کی باقاعدہ ویڈیو جانچ کرنی چاہیے۔ تیس دن کے ریکارڈ میں نو بال اور وائیڈ کو الگ شرحوں سے لکھیں، کیونکہ دونوں کی تکنیکی وجوہ مختلف ہیں۔ یارکر کی مشق میں کریز کی لکیر واضح رکھیں، جبکہ آف سائیڈ لائن کے لیے بیٹر کی معمول کی پوزیشن کو معیار بنائیں۔ آخری اوورز میں رفتار سے زیادہ قابلِ تکرار لائن اور لمبائی کو ترجیح دینا عموماً بہتر رہتا ہے۔

آخر میں، نو بال اور وائیڈ کو صرف اسکور کارڈ کی چھوٹی سطریں نہ سمجھیں؛ یہ رن، گیند، دباؤ اور حکمت عملی چاروں بدل سکتی ہیں۔ درست قانون، صاف ریکارڈ اور اگلی گیند کا منصوبہ مل کر بولنگ کو زیادہ قابلِ اعتماد بناتے ہیں۔

اگر آپ میچ قوانین اور حکمت عملی کی مزید وضاحت چاہتے ہیں تو کرکٹ گفتگو کی تازہ کوریج دیکھیں۔

مزید جانیں

رپورٹ کا اختتام § کرکٹ گفتگو
§

اپنی حکمت عملی کی تحقیق جاری رکھیں۔

متعلقہ مضامین